Tuesday, 14 January 2014

thesis initial writeup

اللہ کے نام سے جو مہربان رحم والا ہے۔
تھیسس ۴۱۰۲ء 
زعیم منصوری 
کلیہ فنِ تعمیرات، شعبہ بصری علوم،
جامعہ کراچی۔
ابتدائیہ:
انسان کا چاہے کسی ختہ سے تعلق ہو اس کی پید ا ئیش کے بعد جب وہ آنکھیں کھولتا ہے تو اپنے ارد گرد لوگوں اور مادی چیزوں کا ہجوم دیکھتا ہے ۔ جب ہوش سمبھالتا ہے تو وہ کسی ایک گروہ یا اردگرد مادی اشیاء کے شور میں خود کو رفتہ رفتہ حصہ دار سمجھتا ہے ، جسے ہم معاشر ہ کہتے ہیں۔
دنیا کا کو ئی بھی سماج Relation between self and society کو فوکس کرتا ہے۔ ہر مذہب یہی سکھاتا ہے کے معاشرے کی کس سمت سفر کرنا ہے؟ کس رخ پہ اپنی پرواز کا زاوئیہ درست کرنا ہے؟ دنیا کا کوئی بھی مذہب دیکھ لیں ، ہزاروں اختلافات کے باوجود ۲ بنیادی عا لمگیر سچائیوں سے جڑے رہتے ہیں ۔ ¾ٰ 
How to live in society.
How to obey unseen power.
دنیا میں انسانیت کی ہی بقاء کے لیے مختلف مذاہب نے جنم لیے، ہر مذہب نے انہی دو چیزوں کی ترجمانی کی ہے۔
عباداتِ غیبی پہاڑوں، بیابانوں او ر جنگلوں میں کی جاتی تھی، مگر تاریخ گواہی دیتی ہے کہ وقت نے ان عبادات کا رخ آبادیوں کی جانب کر دیا تاکہ معاشرہ پھل پھول سکے۔ دنےا کا تقریباً ہر مذہب اس بات پے اتفاق کرتا ہے کہ 
Religions are based on humanity. 
Survival in the society is based on Peace.
اگر دنیا یہ بات سمجھ لے کہ Survival © کی بنیاد صرف معاشرے میں امن ہے تو دنےا بہت پُرسکون جگہ ہو جائے۔
جب ہم روح اور جسم کو موضوعِ بحث بناتے ہیں تو پاکیزگی Purification کی بات سامنے آتی ہے ۔ جسم کو تو دھو کر صاف کیا جاسکتا ہے مگر روح کو ایک خود احتسابی کی تحریک سے گزرنا پڑتا ہے جس کے مختلف ادوار سے گزر کر انسان ایک ایسا طرزِفکر اختیار کرتا ہے جس کی بنیادیں سچائی پر کھڑی ہوتی ہیں۔ سچ کا یہ سفر ایک فردِ واحد سے لے کر افراد تک کو اثر انداز کر سکتا ہے۔ اصلاحِ معاشرت او ر تربیت معاشرتی عمل دخل میں بہتری اور کامیابی کی دلیل ہو سکتی ہے۔
دنیا کے تقریباً ہر مذہب کے لوگ کسی نہ کسی ایسی طاقت کو مانتے ہیں جو کہ بھرپور صلاحیت کا حامل ہو یا ساری طاقتوں کی بنیاد ہو۔ کہیں اُسے خدا، کہیں اُسے بھگوان اور کہیں اُسے God یا پھر اللہ کہا جاتا ہے۔ مقصد اور یقین ایک ہے کہ و ہ طاقت انسان پر حاکمیت کا اختیار رکھتا ہے۔جب انسان کو اُس طاقت کے ہونے کا پختة یقین ہوجائے تو و ہ اپنی حیثیت کو سمجھ سکتا ہے اور سر تسلیمِ خم کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔ جب سر تسلیمِ خم کر لیتا ہے تو اس کے لیے کامیابی کے دریچے کھل جاتے ہیں۔
جب انسان اپنے رب کی پیروی کرنا شروع کردیتا ہے تو اس کے تمام احکام ماننے کی کوشش کرتے ہوئے رب کے واضع کیئے اصول کے مطابق زندگی گزارتا ہے۔ جب یقین پختہ ہو تو و ہ یہ بات مانتا ہے کہ اچھائی کے بدلے انعام اور برائی کے بدلے سزائے برحق ہے۔ پھر انسان رب کے غصہ سے ڈرتا ہے یا انعامات کے چھن جانے سے ڈرتا ہے۔ اس ڈر کو خوفِ خدا کہتے ہیں۔ جب اس خوف کو انسان اپنی روح میں تلاش کرلے تو وہ معاشرے کی برائیوں سے دور رہتا ہے اور معاشرے کے دیگر افراد میں خیر تقسیم کرتا ہے۔ یوں معاشرے میں روشنی کی شمع جلتی رہتی ہے۔ مستحکم ایمان و یقین کی اس کیفیت کو Divine faith کہتے ہیں۔  یہی faith قیام پاکستان کی بنیاد بنا، لاکھوں لوگو ں کی قربانی ایمان و یقین کی حفاظت کے لیے مقصد آزادی تھا۔ مقصد ایک اسلامی فلاحی ریاست تھا، جس کا حاکم اعلی اللہ ہو۔ جس میں ہر مذہب کے ماننے والوں کے لیے عبادت کی آزادی ہو۔ عدل و انصاف ہو ۔ فلاح اور عدل کی بنیادوں پر معاشرے میں حقوق تقسیم ہوں۔
جب میں نے معاشرے میں ہوش سمبھالا تب مجھے یہ پتہ چلا کہ میں مسلم ہوں، لیکن جب خود سے سوال کیا کہ میں مسلمان کیوں ہوں؟ تو جواب پایا کہ دنیا کا بہترین مذہب اسلام ہے جو ایک مکمل ضابطہئِ حیات ہے۔ میری خوش قسمتی کہ میں ایک اسلام کے نام لیوا ملکِ خداداد اسلامی جمہوری پاکستان میں پید ا ہوا۔
فلاحی اسلامی ریاست کے نظامِ زندگی کی بنیاد عدل کو ہم نے چھوڑ کر امت کی بربادی کا سامان جمع کیا ہے جو ظلم ناانصافی جھوٹ اور دھوکہ ہے جس کی وجہ سے آج امت زبو حالی کا شکار ہے۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جتنی قومیں برباد ہوی ¾ں اس کی بربادی کی وجہ اخلاقی قدروں کی گراوٹ اور معاشرتی کردار کی خرابی تھی۔ ہمارے معاشرے میں خوفِ خدا نہ ہونا اور بے حصی باعثِ ہلاکت او ر ظلم کی ابتداء بنی۔ معیشت حرص و حوص کی نظر ہوگئی۔ ہمارے معاشرے میں سیاسی اتار چڑھاﺅ برسوں سے جاری ہے جس کو آج تک حل نہیں کرسکے۔
 انسان کو اللہ نے اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ، انسانیت کے لیئے یہ ایک اعزاز تھا ، جینے کی آزادی دی اور ساتھ میں عقل و شعو ر عطاء کی کہ وہ اچھائی اور برائی میں فرق سمجھ سکے ۔ مگر مسلمانوں نے خود کو ایش و عشرت کی نطر کردیا اور دی ہوئی آذادی کا غلط استعمال کیا ، خدا کے نظام سے ، اس کے حکم سے بغاوت کرتے ہوئے من موجی زندگی بسر کرتے رہے ۔ خود پر ظلم کیا اور نتیجہ معاشرتی بگاڑ کی صورت میں سامنے نظر آرہا ہے۔ 
معاشرتی بگاڑ کی ایک بڑی وجہ وقت کی قدر نہ کرنا ہے ۔ وقت کا ضائیع کرنا ، وقت کے غلط استعمال نے معاشرے کو کاہلی اور سُستی کے دلدل میں دھکیل دیا۔ وقت کی جتنی اہمیت ہے ہم نے اتنا ہی اس کو نا اہم بنا دیا، جس معاشرے میں دفاتر ۹ کے بجائے ۱۱ بجے کھلیں، دکانیں ۲۱ بجے کھلتی ہوں ، وہ معاشرہ اپنی زندگی کے دیگر معاملات کیسے حل کرے گا؟ جس معاشرے کے لوگ وقت کی قدر نہ کریں بھلا وہ معاشر ہ کیسے ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے؟
 (Distruption, Complexity and uncertainity ) ا نتہاے خلل، بے انتہا پیچیدگیاں ، بہت زیادہ غیر یقینی صورتحال، وقت کی ڈرامائی تبدیلی پوری دنیا میں نظر آتی ہے ، تبدیلی کے اس دور میں ہمارے معاشرے کو Focused, Productive, Inspired پیش رفت کی ضرورت ہے۔ 
ایک پاکستانی اسلامی فلاحی معاشرے میں مثبت پیش رفت کی ضرورت کو مدِنظر رکھتے ہوئے ہمیں اےسے مراکز کی ضرورت ہے جو عیش و عشرت اور چکاچوند روشنیوں سے بالا تر Down to earth او ر ظاہری آشائیشوں سے مُبرا ، فرقہ بندیوں اور زات پات کے فرق سے دو ر ہو۔ جہاں انفرادی و روحانی پاکیزگی کے ساتھ معاشرتی تبدیلی و کردار سازی ہو، جہاں سچائی او ر حقیقت کی روشنی ہو، او ر یہ مرکز ایک روشن مستقبل کی امید ثابت ہو ۔
 زبوحالی کی طرف جاتی ایک اسلام کے نام پہ قائم ہوئی ریاست کا شہری ہوتے ہوئے میرے ذہن میں کئی سوال گردش کرتے ہیں ، جن کے کچھ جواب تو میری عقل بیاں کردیتی ہے ، مگر کئی سوالوں کے جواب کے لئیے شعور مجھے مقالہ کے زریعہ علم و تحقیق کے دریچوں کی جانب لے جا رہا ہے ۔
۱۔ کیا ترقی یافتہ ممالک کے مسلمان بہتر معاشرہ کی مثال قائم کر رہے ہیں؟ جہاں باہمی اخوت و ایثار، انفرادی اور اجتماعی نظم و ضبظ اور معاشرتی ربط بہتر قائم ہے۔ جہاں امن و استحکام ہے اور خوفِ خدا تربیت کا حصہ ہے۔ کیا ہمیں ایسے معاشرے کے قیام کی ضرورت ہے؟
۲۔ جھوٹ ، دھوکہ اور خود فریبی کی دلدل سے باہر کیسے آیا جا سکتا ہے؟ 
۳۔ کیا سماجی زندگی میں عدل کی کمی ظلم کی وجہ بنی ہوئی ہے؟
۴۔ برداشت، صبر، درگزر کی تعلیم کیا وقت کی ضرورت ہے؟ 
۵۔ مدرارس کا معاشرے میں کردار، کسی طرح بہتری کا سبب بن سکتے ہیں؟
 ۶۔ دنیا ۔۔مذہب سے دور ہونے کی وجہ سے کیا خود احتسابی او ر اصلاحِ معاشرت سے بھی دور ہو گئی ہے؟
۷۔ کیا عبادت معاشرے کو مثبت اثر انداز کر سکتی ہیں؟
۸۔ کیا موثر ترین طریقہ خدا کے سامنے جوابدہی کے احساس کے تحت زندگی گزارنا ہے؟
۹۔ خواتین کا عباد ت گاہ سے کتنا تعلق ہو سکتا ہے؟
۰۱۔ مذہبی پریکٹس سے war violence اور depression میں کمی آ سکتی ہے؟
۱۱۔ کیا مذہب کی اصل حقیقت سے دوری اور نظامِ زندگی کے اصولوں سے بغاوت ، طرزِ معاشرت میں disbalance کی وجہ ہے؟
۲۱۔ کیا معاشرتی مسائل کے حل کے لئیے عبادت گاہیں کردا ر ادا کرسکتی ہیں؟
۳۱۔ امت کے اتحاد کے لیے عبادت گاہ کوئی کردار ادا کر سکتی ہے؟
۴۱۔ شادی بیاہ کو عبادت گاہ سے جوڑ دیا جائے تو کیا معاشرہ میں سادگی برقرار رکھ سکیں گے اور غیر ضروری بوجھ کو کم کیا جا سکتا ہے؟
۵۱۔ Recreational Activity کو عبادت گاہ سے منسلک کرنے سے نوجوانوں کو عبادت گاہ کی جانب رغبت ہو سکے گی؟
۶۱۔ کیا عبادت ا ور اس کی Space کی اہمیت اور تعلق کو سمجھنے سے ہم اجتماعیت کی طرف آسکتے ہیں؟
۷۱۔ کیا عبادت ا ور اس کی Space کا آپسی تعلق کوئی تبدیلی لا سکتا ہے؟
۸۱۔ چکاچوند روشن عبادت گاہیں یا پھر سادہ اور سنٹرلایزڈ عبادت گاہیں اجتماعیت اور یکجہتی ملت ، بکھرتی طرزِ معاشرت کو سہارا دے سکتی ہے؟ ےا اجتماعیت کے لئے مزید Social Spaces شامل کرنے کی ضرورت ہے؟ 
۹۱۔ عبادات کو کس طرح social responsive بنایا جائے؟ یا social response کو عبادات کی طرف Attract کروایا جائے؟ 
۰۲۔ انفرادی و اجتماعی activities معاشرے پر اثر انداز ہو سکتی ہے؟
Daily Prayer <Daily activities <<<Connection>> > attraction >social response 
Social call for betterment <<<Connection>> > social response> social cause 
۱۲۔ کیا علماءکرام کا عبادت گاہ سے مطالق کوئی مثبت کردار ہو سکتا ہے؟


No comments:

Post a Comment